آئینِ پاکستان ۱۹۷۳ پاکستان کا اعلیٰ ترین قانون ہے — وہ دستاویز جو ریاست کے تمام اداروں، حقوق اور اختیارات کا تعین کرتی ہے۔ یہ مضمون اردو میں اس کا مکمل تعارف پیش کرتا ہے۔
Quick answer:
آئینِ پاکستان ۱۹۷۳ ۱۰ اپریل ۱۹۷۳ کو منظور اور ۱۴ اگست ۱۹۷۳ کو نافذ ہوا۔ اس میں ۲۸۰ دفعات ہیں اور اب تک ۲۷ ترامیم ہو چکی ہیں (نومبر ۲۰۲۵ تک)۔ یہ پارلیمانی جمہوریت کا نظام قائم کرتا ہے۔
In this guide
تاریخ
۱۹۷۱ میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں قومی اسمبلی نے نیا آئین تیار کیا۔ عبدالحفیظ پیرزادہ کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی نے مسودہ بنایا، جو ۱۰ اپریل ۱۹۷۳ کو متفقہ طور پر منظور ہوا۔ صدر بھٹو نے ۱۲ اپریل کو توثیق کی اور آئین ۱۴ اگست ۱۹۷۳ کو نافذ ہوا۔
یہ پاکستان کا تیسرا آئین ہے — ۱۹۵۶ اور ۱۹۶۲ کے آئین منسوخ ہو چکے تھے۔ ضیاء الحق (۱۹۷۷) اور پرویز مشرف (۱۹۹۹) کے ادوار میں معطل رہا، مگر ہر بار بحال ہوا — یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے دیرپا آئین ہے۔
بنیادی حقوق
دفعات ۸ تا ۲۸ شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتی ہیں: جان و آزادی کا تحفظ (دفعہ ۹)، گرفتاری سے تحفظ (دفعہ ۱۰)، انسانی وقار (دفعہ ۱۴)، اظہارِ رائے کی آزادی (دفعہ ۱۹)، اور قانون کے سامنے مساوات (دفعہ ۲۵)۔ ان حقوق سے متصادم کوئی قانون کالعدم ہے (دفعہ ۸)۔
نظامِ حکومت
آئین پارلیمانی وفاقی جمہوریت قائم کرتا ہے: وزیرِاعظم انتظامی سربراہ، صدر سربراہِ مملکت؛ دو ایوانی مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ)؛ چاروں صوبوں کی اپنی اسمبلیاں؛ سپریم کورٹ کی سربراہی میں آزاد عدلیہ؛ اور اسلامی دفعات (۲۲۷ تا ۲۳۱) جو قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنانے کا تقاضا کرتی ہیں۔
اہم ترامیم
- آٹھویں ترمیم (۱۹۸۵): صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار (۵۸-۲-ب)
- تیرہویں ترمیم (۱۹۹۷): ۵۸-۲-ب کا خاتمہ — پارلیمانی نظام کی بحالی
- اٹھارہویں ترمیم (۲۰۱۰): صوبائی خودمختاری، مکمل پارلیمانی نظام
- چھببیسویں ترمیم (۲۰۲۴): عدالتی اصلاحات
- ستائیسویں ترمیم (۲۰۲۵): وفاقی آئینی عدالت، دفاعی افواج کے سربراہ کا نیا نظام
Frequently asked questions
آئین پاکستان 1973 کب منظور ہوا؟
۱۰ اپریل ۱۹۷۳ کو قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کیا؛ ۱۴ اگست ۱۹۷۳ کو نافذ ہوا۔
آئین پاکستان میں کتنی دفعات ہیں؟
۲۸۰ دفعات (بارہ ابواب)، جن میں اب تک ۲۷ ترامیم ہو چکی ہیں۔





